اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف میجر جنرل مسعود جزائری نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شام کی موجودہ صورت حال اور اس ملک کے مستقبل کا تجزیہ کیا اور کہا: امریکہ اور عالمی صہیونیت کی قیادت میں ایک بڑے محاذ نے ایک بار پھر علاقے کے بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی اور انھوں نے مل کر ایک بار پھر اپنے طویل المدت اہداف کے خدوخال کو واضح کردیا۔ جنرل جزائری نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ اس حرکت کا آغاز حزب اللہ پر حملے سے شروع ہوا اور حزب اللہ پر حملہ در حقیقت ایک ہمہ جہت، منصوبہ بندی شدہ اور پیچیدہ جنگ پر منتج ہوا جس کے بعد فلسطینی مزاحمت تحریک اور حماس کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑکی گئی اور 22 روز تک امریکہ، اسرائیل اور ملت فلسطین کے دشمنوں نے مل کر اپنی قسمت آزمائی لیکن دنیا نے دیکھا کہ اس جنگ کے فاتح فلسطینی عوام تھے اور جو لوگ حزب اللہ اور فلسطینیوں کو شکست دینے آئے تھے ان کے پاس پسپا ہونے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ انھوں نے کہا: ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق، جو کچھ شام میں ہورہا ہے درحقیقت اسی یلغار کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ وسیع سطح پر علاقے میں اپنی تعیناتی کو یقینی بنا سکے اور شام پر حملہ کرکے اس محاذ نے مزاحمت کے ایک اور اہم حلقے پر یلغار کردی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس یلغار کے کئی مہینے گذرنے کے باوجود شام کی حکومت، فوج اور عوام حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہیں۔ جنرل جزائری نے کہا: شام کام مسئلہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہيں ہے اور بہت سے ممالک اعلانیہ اور بعض دیگر خفیہ طور پر مالی، انٹیلی جنس، فوجی امداد پہنچا کر یا مواصلاتی سہولیات دے کر اور ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاکر اس جنگ میں کردار ادا کررہے ہیں اور شام میں سرگرم عمل لوگوں کا ایک سرا امریکہ اور صہیونی ریاست سے جاملتا ہے اور دوسرا سرا یورپ اور تیسرا مشرق وسطی کے بعض ممالک سے جاملتا ہے۔ انھوں نے کہ: ہمیں افسوس ہے کہ علاقے میں عدم استحکام کے لئے سرگرم عمل محاذ کے تعلقات صہیونیوں اور یہودی ریاست سے بہت گہرے ہیں حالانکہ یہی لوگ اس بات کا انکار بھی نہيں کرسکتے کہ صہیونی اسلام اور عرب کے دشمن ہیں اور یہ دشمنی 60 سال سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس محاذ میں لڑنے والے گروہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ـ اپنی تمام تر منصوبہ بندی اور بیرونی امداد کے باوجود ـ فرار ہونے پر مجبور ہورہے ہیں اور دہشت گردوں کی طرح عمل کرنے والا دشمن کا لشکر نقطہ بہ نقطہ اور مورچہ بہ مورچہ شام کی سرزمین ترک پر مجبور ہو رہا ہے۔ ایرانی جنرل نے کہا: شامی حکومت میں ایک مضبوط عزم و ارادہ پایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف ہمہ جہت جنگ لڑنی چاہئے اور یہ کہ شام کے حکومت کے پاس اپنی سرزمین سے دہشت گرد دشمنوں اور جارحین کو مار بھگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: فوجی کاروائیوں، انٹیلی جنس وار فیئر اور شامی رائے عامہ سے ظاہر ہورہا ہے کہ دشمن کو اس محاذ میں بھی بہرصورت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ علاقے میں امریکہ اور اس کے کٹھ پتلیوں کی تیسری بڑی شکست رقم ہورہی ہے۔ شام کے حقائق سامراجی میڈیا کے دعووں کے برعکس ہےجنرل جزائری نے کہا: سامراجی اور استکباری تشہیری ذرائع جو چاہیں کہتے رہيں اور جس حد تک چاہیں رائے عامہ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کریں لیکن عملی میدان میں حقیقت وہ ہے بو میں میں بیان کررہا ہوں: ٭ شام کی حکومت عنقریب اس بحران پر غلبہ پائے گی؛٭ مستقبل محاذ مزاحمت کا ہے؛ ٭ جس طرح کہ 33 روزہ اور 22 روزہ جنگوں میں پیشنگوئی کی جاسکتی تھی کہ یہودی ریاست اپنے تمام تر ہتھیاروں، وسائل اور فوجی قوت کے باوجود، عوامی مزاحمت کا مقابلہ نہیں کرسکے گی، شام میں بھی وہی کچھ ہوگا۔ جنرل جزائری نے کہا: اس کے باوجود کے علاقے میں بھی اور دنیا کی سطح پر بھی شام کے دوستوں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن یہ ملک ان تمام قوتوں اور ملکوں اور ان کے کرائے کے قاتلوں کے سامنے اکیلے ڈٹا ہوا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام کی حکومت، عوام اور افواج نے مل کر اس آشوب اور بغاوت کا راستہ روکا ہوا ہے اور اسے کچل رکھا ہے۔ شام کے دوست کون ہیں؟جنرل جزائری نے شام کے دوستوں کے بارے میں کہا: علاقے میں محاذ مزاحمت کے تمامتر اجزاء شام کے دوست ہیں اور دوسری طرف سے دنیا کی بعض اہم قوتيں بھی شام کی دوست ہیں۔انھوں نے کہا: آج وہ زمانہ گذرچکا ہے جب امریکہ کی بات آخری بات ہوتی تھی۔انھوں نے کہا: یہ علاقہ جتنا مستحکم اور پر امن ہو اتنا ہی بعض ممالک کے لئے مفید ہے اور جتنا عدم استحکام اور بدامنی ہوگی بعض دوسرے ممالک اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔شام کے دوستوں کو کچھ کرنے کی ضرورت نہيں پڑے گیجنرل جزائری نے کہا: جن ممالک کو علاقے کا امن و استحکام عزیز ہے اور امن و استحکام ہی ان کے مفاد میں ہے وہ شام کے دوست ہیں اور ابھی تک اس بات کی ضرورت نہيں پڑی ہے کہ شام کے دوستوں کے یہ حلقے پوری طرح میدان میں اتریں اور ہمارا تجزیہ بھی یہی ہے کہ شام کے دوستوں کو ایسا کرنے کی ضرورت نہيں پڑے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے تمام مظلوموں کا حامیجنرل جزائری نے کہا: شام کے اندرونی اور بیرونی دشمن کہتے ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی حکومت شام کی مدد کررہی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ جو لوگ دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں اور اسی وقت شام میں موجود ہیں اور جن ممالک کے باشندے شام میں جاری دہشت گردی کے معرکے میں سرگرم عمل ہیں اور گرفتار ہوئے ہیں اور اس وقت شامی افواج کی تحویل میں ہیں، اصولی طور پر شام کے بارے میں، شام میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں کچھ کہنے کی اہلیت نہيں رکھتے۔ جنرل جزائری نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا بھر میں تمام مظلوموں کی حمایت کرتا ہے اور آج کی صورت حال میں ہم شام کی وسیع اخلاقی حمایت کرتے ہيں؛ لیکن اگر صورت حال بدل گئی تو ہماری حمایت کی نوعیت میں بھی تبدیلی آسکی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم دھمکی کا جواب دھمکی سے دیں گے اور اگر کوئی ہمارے لئے خطرہ کھڑا کرنے کی کوشش کرے گا تم ہم میں ویسا ہی جواب دیں گے۔حمایت کی نوعیت کس صورت میں بدل سکتی ہے؟سردار جزائری نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہم خاص قسم کے حالات میں فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم علاقائی مزاحمت اور اپنے دوستوں کی کس طرح حمایت کریں؛ چنانچہ آنے والے حالات کا انتظار رکھنا چاہئے۔ ایران اپنے دوستوں اور مزاحمت تحریک کی نسبت حساس ہےجنرل جزائری سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اگر دوسرے ممالک شام میں مداخلت کریں تو کم از کم نظری حوالے سے، ایران بھی میدان جنگ میں داخل ہوجائے؟ تو انھوں نے کہا: ہم اپنے دوستوں کی نسبت اور محاذ مزاحمت کی نسبت بہت حساس ہیں اور ہم دشمن کو پیش قدمی کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنگ کی صورت میں امریکہ آخری فیصلہ کرنے کی اہلیت نہيں رکھتاسردار جزایری نے شام کی جنگ کے افق (Horizon of War) کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: شام کی جنگ میں بہت سے ممالک اور مختلف فریق ملوث ہیں؛ سعودی عرب، قطر اور ترکی دہشت گردوں کی مالی مدد کررہے ہیں اور انہیں ہتھیار فراہم کررہے ہيں، مغربی ممالک بھی انہیں مواصلاتی امداد فراہم کررہے ہیں اور ان کو سامان رسد پہنچا رہے ہیں چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ شام کے دشمن عددی لحاظ سے قابل توجہ ہیں لیکن ان کے تمام اقدامات فوجی حوالے سے اہمیت نہيں رکھتے۔ انھوں نے کہا: دنیا کے ممالک کی پوزیشن بنیادی تبدیلیوں سے دوچار ہوئی ہے اور تمام فوجی منظرنامے اور تمام فوجی اقدامات دشمن کے پاس نہيں ہیں، امریکہ متعدد اندرونی مشکلات و مسائل کا سامنا کررہا ہے اور فوجی اور انٹیلیجنس کے لحاظ سے برتری کے باوجود، وہ خود بھی جانتا ہے کہ یہ ملک دنیا کے مختلف ممالک میں کسی بھی تنازعے اور جنگ کا آغاز تو کرسکتا ہے لیکن بعض علاقوں ـ بالخصوص مشرق وسطی اور خلیج فارس کے علاقے میں ـ امریکہ سب سے زیادہ اس حقیقت سے واقف ہے کہ تنازعات کو اپنے قابو میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نفسیاتی کاروائیاں اور نرم جنگجنرل جزائری نے کہا: مذکورہ بالا حقائق کو مد نظر رکھ کر، کہا جاسکتا ہے کہ تمام وسائل اور امکانات امریکہ اور استکباری نظام اور امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے والے ممالک کے ہاتھ میں نہيں ہیں؛ مشرق وسطی ایسا علاقہ نہیں ہے کہ اس میں جنگ کے شعلے بھڑکاؤ اور پھر خود ہی ان پر قابو پاسکو اور ان شعلوں کو بجھا سکو۔ اس علاقے میں ایک گولی چلے گی تو پورا علاقہ عظیم خطرے سے دوچار ہوگا۔ انھوں نے کہا: قطعی طور پر امریکی، صہیونی اور مذکورہ ممالک مخالف فریق کی زد میں ہیں؛ چنانچہ شام کے خلاف لڑنے والے محاذ کی بہت سی باتیں اور بہت سی دھمکیاں نرم جنگ اور نفسیاتی کاروائیوں کا حصہ ہیں۔انھوں نے کہا: امریکہ جانتا ہے کہ وہ سیکورٹی اور فوجی حوالے سے ہر قسم کا اقدام نہیں کرسکتا چنانچہ وہ تشہیری مہمات اور نفسیاتی جنگ کی حکمت عملی کے تحت اور مغربی اور بعض عرب ذرائع ابلاغ کے ذریعے شامی عوام، حکومت، فوج اور مخالفین کو یہ جتانا چاہتا ہے کہ گویا شامی حکومت کا کام تمام ہونے والا ہے۔جنرل مسعود جزائری نے خبردار کیا: ہمیں اس خاص نوعیت کی جنگ کے بارے میں ہوشیار و بیدار ہونا چاہئے خاص طور پر مزاحمت تحریک کے ہمدرد ذرائع ابلاغ کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ دشمن کی نفسیاتی کاروائیاں رائے عامہ کو گمراہ نہ کرسکیں۔انھوں نے کہا: ان ہی فوجی، انٹیلجنس، اور سیکورٹی اقدامات کا ایک حصہ سامان رسد پہنچانا اور دہشت گردی کی کاروائیاں ہیں جو اس وقت شامی عوام کے خلاف جاری ہیں اور ان اقدامات کا ایک حصہ یہ ہے کہ بعض واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے یعنی دشمن کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو بڑا، طاقتور اور حالات پر مسلط قوت کی حیثیت سے متعارف کرائے اور شامی فوج اور حکومت کو کمزور اور شکست خوردہ حکومت کے عنوان سے پیش کرے حالانکہ حقیقی صورت حال اس کے برعکس ہے۔ امریکی دھمکیاں سیاسی ڈینگیں ہیںجنرل جزائری نے 1+5 کے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکہ کی طرف سے فوجی کاروائی کی دھمکی کے بارے میں کہا: ہم سپاہیوں کا معمول ہے کہ ہم دشمن کو ہمیشہ سنجیدہ تصور کرتے ہیں چنانچہ ہم نے امریکی دھمکی کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل تیاری کررکھی ہے اور ہماری منصوبہ بندیاں مکمل ہیں اور ہماری تیاریاں ہر روز جاری ہیں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں میں ہر روز اضافہ کررہے ہیں۔ تا ہم میں قطعی طور پر تاکید کرتا ہوں کہ امریکی دھمکیاں سیاسی ڈینگیں (Political Bluffs) اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں؛ نہ امریکہ ہم پر حملہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور نہ ہی یہودی ریاست میں ایسی صلاحیت ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے دشمنوں نے ہماری طاقت کے بعض پاور بیسز سے واقفیت حاصل کرلی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ہم شیخی نہيں بگھارا کرتے اور ڈینگیں نہيں مارا کرتے اور ہم جو کہتے ہیں وہ عین حقیقت ہے۔ انھوں نے کہا: امریکہ و یہودی ریاست کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ اسلامی ذرائع ابلاغ کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان نفسیاتی ہتھکنڈوں سے متاثر نہ ہوں کیونکہ اص
30 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 333389
مسلح افواج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف میجر جنرل جزائری نے کہا ہے کہ شام کی صورت حال مغربی ذرائع کی تشہیری مہم کے برعکس، مغرب اور امریکہ کے حق میں نہيں ہے اور شام میں ـ لبنان کی 33 روزہ جنگ اور غزہ کی 22 روزہ لڑائی کے بعد ـ امریکہ اور اس کے کٹھ پتلیوں کی تیسری بڑی شکست عنقریب رقم ہورہی ہے / ہم شام میں دشمن کو پیش قدمی کی اجازت نہیں دیں گے۔